السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکلنے کے بارے میں فرمایا: یہ برے اخلاق میں سے ہے۔