السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَيْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا؟ قَالَ: " تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا "، قَالَ: قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ؟ قَالَ: " تِلْكَ الْمَرْأَةُ الَّتِي فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّهَا اسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا بِلِسَانِهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ رَجُلًا مَكْفُوفَ الْبَصَرِ " ⦗٧١٢⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَائِشَةُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ يَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ كَمَا حَدَّثْتُ، وَيَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ لِلشَّرِّ وَيَزِيدُ ابْنُ الْمُسَيِّبِ تَبْيِينَ اسْتِطَالَتِهَا عَلَى أَحْمَائِهَا وَيَكْرَهُ لَهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرُهُ أَنَّهَا كَتَمَتْ فِي حَدِيثِهَا السَّبَبَ الَّذِي بِهِ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا خَوْفًا أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ سَامِعٌ فَيَرَى أَنَّ لِلْمَبْتُوتَةِ أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ.عمرو بن میمون رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: طلاق ثلاثہ والی عورت عدت کہاں گزارے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے گھر میں عدت گزارے۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو حکم نہیں دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے جیٹھ پر بدزبانی کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، مروان رحمہ اللہ اور ابن مسیب رحمہ اللہ یہ جانتے تھے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دی تھی کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ اور دوسرے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں سبب بیان نہیں ہوا، اس لیے یہ خاوند کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت گزارنے کو ناپسند کرتے ہیں اس ڈر سے کہ جو بھی اسے سنے گا وہ یہی کہے گا کہ وہ جہاں مرضی عدت گزار لے۔