السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ "، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ " ⦗٧١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص (رضی اللہ عنہ) نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ شام میں غائب ہو گیا۔ اس نے اس کی طرف اپنا وکیل جو دے کر بھیجا وہ اس پر سخت ناراض ہوئی۔ ابو عمرو بن حفص نے کہا: ”اللہ کی قسم! نہیں ہے تیرے لیے ہمارے ذمے کچھ بھی۔“ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اس نے یہ تمام ماجرا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے۔“ اور اس کو حکم دیا کہ وہ ام شریک (رضی اللہ عنہا) کے گھر عدت گزارے۔ پھر فرمایا: ”یہ عورت ہے اس کو میرے صحابی ڈھانپ لیں گے، تو ابن مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے اور تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔