السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٧٠٩⦘ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " الْفَاحِشَةُ الْمُبَيِّنَةُ أَنْ تَفْحَشَ الْمَرْأَةُ عَلَى أَهْلِ الرَّجُلِ وَتُؤْذِيَهُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَا تَأَوَّلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] هُوَ الْبَذَاءُ عَلَى أَهْلِ زَوْجِهَا كَمَا تَأَوَّلَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ﴿بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ عورت آدمی کے اہل کے بارے میں فحش گوئی کرے اور ان کو تکلیف دے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا میں ہے، وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں تاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر، جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔