حدیث نمبر: 15427
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ نا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمُحْتَسِبُ، نا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْبُخَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى التَّيْمِيُّ نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ⦗٦٩٤⦘ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً أَغْزِلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ فَجَعَلَ جَبِينُهُ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُهُ يَتَوَلَّدُ نُورًا فَبُهِتُّ فَنَظَرَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَالَكِ يَا عَائِشَةُ بُهِتِّ؟ " قُلْتُ: جَعَلَ جَبِينُكَ يَعْرَقُ وَجَعَلَ عَرَقُكَ يَتَوَلَّدُ نُورًا وَلَوْ رَآكَ أَبُو كَبِيرٍ الْهُذَلِيُّ لَعَلِمَ أَنَّكَ أَحَقُّ بِشِعْرِهِ قَالَ: " وَمَا يَقُولُ أَبُو كَبِيرٍ؟ " قَالَتْ: قُلْتُ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں بیٹھی ہوئی اون کات رہی تھی اور نبی ﷺ اپنے جوتے کو پیوند لگا رہے تھے، آپ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا اور آپ کے پسینے سے روشنی پھوٹ رہی تھی، میں حیرانی سے خاموش ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”اے عائشہ! کس چیز نے تجھے حیران کیا ہے؟“ میں نے کہا: آپ کی پیشانی سے نکلنے والے پسینے اور اس پسینے سے نکلنے والی روشنی نے، اور اگر آپ کو ابو کبیر ذہلی دیکھ لیتا تو وہ جان جاتا کہ آپ اس کے شعر کے زیادہ حق دار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو کبیر نے کیا کہا ہے؟“ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ کہتا ہے: ”اور وہ حیض کی ہر آلودگی سے پاک ہے، دودھ پلانے والی کی خرابی اور درد سر والی کی بیماری سے محفوظ ہے۔ جب تو اس کے چہرے کی رونق کو دیکھے تو وہ ایسے چمک رہا ہوگا جیسے گرجنے چمکنے والے بادل۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی ﷺ میری طرف کھڑے ہوئے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15427
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»