أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَعَرَّضَ لَهَا رَجُلٌ بِالْخِطْبَةِ حَتَّى إِذَا حَلَّتْ تَزَوَّجَهَا فَلَبِثَتْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَنِصْفًا ثُمَّ وَلَدَتْ فَبَلَغَ شَأْنُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: هُوَ وَاللهِ وَلَدُهُ فَسَأَلَ عُمَرُ عَنِ الْمَرْأَةِ فَلَمْ يُخْبِرْ عَنْهَا إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى نِسَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَجَمَعَهُنَّ ثُمَّ سَأَلَهُنَّ عَنْ شَأْنِهَا وَخَبَرِهَا، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ لَهَا: هَلْ كُنْتِ تَحِيضِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ قَالَتْ: مَتَى عَهْدُكِ بِزَوْجِكِ؟ قَالَتْ: قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ قَالَتْ: أَنَا أُخْبِرُكَ خَبَرَ هَذِهِ الْمَرْأَةِ حَمَلَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَتْ تُهَرَاقُ عَلَيْهِ فَحَشَّ وَلَدَهَا عَلَى الْهَرَاقَةِ حَتَّى إِذَا تَزَوَّجَتْ وَأَصَابَهُ الْمَاءُ مِنْ زَوْجِهَا انْتَعَشَ وَتَحَرَّكَ عِنْدَ ذَلِكَ فَانْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ فَهِيَ حِينَ وَلَدَتْ وَلَدَتْهُ لِتَمَامِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ قَالَتِ النِّسَاءُ: صَدَقْتِ هَذَا شَأْنُهَا، فَفَرَّقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَهُمَا ".عبداللہ بن عبداللہ بن ابی امیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اسے ایک دوسرے شخص نے نکاح کا پیغام بھیجا۔ جب وہ حلال ہو گئی تو اس نے اس سے شادی کر لی، وہ ساڑھے چار ماہ تک ٹھہری رہی، پھر اس نے بچے کو جنم دے دیا۔ پس یہ معاملہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، انہوں نے عورت کی طرف (قاصد) بھیجا اور اس سے سوال کیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ اسی (پہلے خاوند) کا بچہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کے بارے میں سوال کیا اور ان کو اس عورت کے بارے میں خیر کی خبر دی گئی۔ پھر انہوں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرف پیغام بھیجا، ان کو جمع کیا اور ان سے اس کے معاملے اور اس کی خبر کے بارے میں سوال کیا تو ان میں سے ایک عورت نے اس عورت سے کہا: کیا تو حائضہ ہوئی تھی؟ اس نے کہا: ہاں! میں حائضہ ہوئی تھی۔ اس عورت نے کہا: تیرا اپنے خاوند سے آخری تعلق کب ہوا تھا؟ اس نے کہا: اس کے وفات پانے سے پہلے، اس عورت نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آپ کو اس کی خبر دیتی ہوں، یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے حاملہ ہوئی اور یہ اس پر خون کو بہاتی تھی، اس کا بچہ خون کے بہہ جانے کی وجہ سے سوکھ گیا حتیٰ کہ جب اس نے دوسرے خاوند سے شادی کی، اسے اس خاوند سے پانی پہنچا، یہ پھر سے تر و تازہ ہو گیا اور حرکت کرنے لگا اور اس وجہ سے اس کا خون بھی بند ہو گیا، پس جب اس نے بچہ جنا ہے تو بچہ مکمل چھ ماہ کا جنم دیا ہے۔ عورتوں نے کہا: اس نے اس کے معاملے کو سچا بیان کیا ہے۔ پس عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جدا کر دیا۔