السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال الأقراء الحيض باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15397
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، نا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللهِ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَحِيضُ ثَلَاثَ حِيَضٍ فَيُرَاجِعُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ: " هُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عمر، عبداللہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر وہ حائضہ ہو گئی، جب وہ تیسرے حیض کو پہنچی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا، اس کے غسل کرنے سے پہلے فرماتے ہیں کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کر لے۔