السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال الأقراء الحيض باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15396
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ رَاجَعَهَا حِينَ دَخَلَتْ فِي الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ قَالَ: " إِنِّي أَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ " قَالَ: لَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا أَخَذَ بِذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف قاصد بھیجا کہ وہ ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کرے جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر جب وہ تیسرے حیض میں داخل ہوئی تو اس نے اس سے رجوع کر لیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ اس کا زیادہ حق رکھتا ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کرے اور اس کے لیے نماز پڑھنا حلال نہ ہو جائے۔ ابو عبیدہ فرماتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی کو اختیار کیا۔