السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
جماع أبواب عدة المدخول بها -- باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ومن قال: الأقراء الأطهار وما دل عليه من الآثار باب: مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15391
قَالَ: وَنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ ذَلِكَ " إِذَا دَخَلَتِ الْمُطَلَّقَةُ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَدْ بَانَتْ مِنْ زَوْجِهَا وَلَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا وَلَا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا " قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَاكَ الْأَمْرُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد، سالم بن عبداللہ، ابوبکر بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار رحمہم اللہ سے روایت ہے کہ وہ سب اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب مطلقہ عورت تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہو گئی۔ ان دونوں کے درمیان وراثت نہیں اور خاوند کے لیے اس پر رجوع کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔