حدیث نمبر: 15390
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الْمَرْأَةِ إِذَا طُلِّقَتْ فَدَخَلَتْ فِي الدَّمِ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ فَقَالَا: " قَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَحَلَّتْ ".
حافظ ثناء اللہ

فضیل بن ابی عبداللہ مہری کے مولیٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ جب کسی عورت کو طلاق دے دی جائے اور وہ تیسرے حیض کے خون میں داخل ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ ان دونوں نے فرمایا: وہ بائنہ ہو گئی اور وہ حلال ہو گئی، (یعنی اس کی عدت ختم ہو گئی)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15390
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»