السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
جماع أبواب عدة المدخول بها -- باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ومن قال: الأقراء الأطهار وما دل عليه من الآثار باب: مدخول بہا عورت کی عدت کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین قروء تک اپنے آپ کو روکے رکھیں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، ان علماء کا موقف کہ ”اقراء“ سے مراد طہر (پاکی) ہے، اور اس پر دلالت کرنے والے آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ⦗٦٨١⦘ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دے دی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر وہ اس کو روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر وہ حائضہ ہو، پھر پاک ہو، پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اس کو روکے رکھے اور اگر چاہے تو اس کو چھونے سے پہلے طلاق دے دے۔ یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“