السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: سبب نزول الآية في العدة باب: عدت سے متعلقہ آیت کے شان نزول کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ عِدَّةُ النِّسَاءِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الْمُطَلَّقَةِ وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ قَدْ بَقِيَ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُذْكَرْ فِيهِ شَيْءٌ قَالَ: " وَمَا هُوَ؟ " قَالَ: الصِّغَارُ وَالْكِبَارُ ذَوَاتُ الْحَمْلِ قَالَ: فَنَزَلَتْ {وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: ٤].ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب سورہ بقرہ میں مطلقہ عورتوں اور جن کے خاوند کی عدت کے احکام نازل ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل مدینہ کے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں: یقیناً عورتوں میں وہ رہ گئی ہیں جن کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کون ہیں؟“ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوٹی عمر والی لڑکیاں، بوڑھیاں اور حاملہ عورتیں۔ ابو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 4] ”اور وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہیں اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا اور حمل والی عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہو جانا ہے، (یعنی بچے کا پیدا ہو جانا)۔“