السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: سبب نزول الآية في العدة باب: عدت سے متعلقہ آیت کے شان نزول کا بیان۔
حدیث نمبر: 15378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، " أَنَّهَا طُلِّقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُطَلَّقَةِ عِدَّةٌ فَأَنْزَلَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ حِينَ طُلِّقَتْ أَسْمَاءُ بِالْعِدَّةِ لِلطَّلَاقِ فَكَانَتْ أَوَّلَ مَنْ أُنْزِلَ فِيهَا الْعِدَّةُ لِلطَّلَاقِ ".حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسے (یعنی اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کو) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں طلاق دے دی گئی اور طلاق شدہ عورتوں کے لیے عدت نہیں تھی۔ چنانچہ اللہ جل شانہ نے طلاق کی عدت کے متعلق اس وقت آیات نازل فرمائیں جب اسماء کو طلاق دی گئی۔ یہ پہلی عورت تھی جس کے بارے میں طلاق کی عدت نازل ہوئی۔
[حسن۔ اخرجہ السجستانی ٢٢٨١]