السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: الولد للفراش بالوطء بملك اليمين، والنكاح باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا، اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْظُرُ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضُهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ: " هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ " ⦗٦٧٧⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ، مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھوں تو اس کو قبضے میں لے لینا؛ کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے“، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا بھائی، میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا، میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا“۔ آپ ﷺ نے عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت بھی دیکھی، پھر بھی آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبد بن زمعہ! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ صاحبِ فراش کا ہے اور اے سودہ رضی اللہ عنہا! تو اس سے پردہ کر۔“