حدیث نمبر: 15345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أنا أَبُو يَعْلَى، نا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، نا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِنْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ، أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَقَالَ: " اللهُمَّ افْتَحْ " وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ} [النور: ٦] هَذِهِ الْآيَاتِ، فَابْتُلِيَ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللهِ أَنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَهْ " فَلَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ: " لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا " فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات مسجد میں تھے، ایک انصاری شخص آیا اور اس نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، اگر وہ بات کرے تو تم کوڑے لگاؤ گے، اگر قتل کرے تو تم اسے قتل کر دو گے، اگر خاموش رہے تو غصے والی بات پر خاموش رہے گا، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ سے ضرور سوال کروں گا۔“ جب صبح ہوئی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر سوال کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، وہ ملامت کرے تم کوڑے لگاؤ گے، اگر قتل کرے تو تم قتل کر دو گے، اگر خاموش رہے تو غصے والی بات پر خاموش رہے گا۔ اس نے عرض کیا: «اللَّهُمَّ افْتَحْ» ”اے اللہ! تو اس معاملے کو حل فرما۔“ اور آپ ﷺ دعا فرما رہے تھے کہ لعان والی آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور صرف خود ہی گواہ ہیں۔“ یہی شخص اس میں مبتلا کر دیا گیا، تو میاں بیوی نے آکر رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کیا۔ مرد نے چار گواہیاں دیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کی قسم میں اس نے کہا: ”اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے۔“ وہ عورت لعان کے لیے آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رک جا۔“ اس نے لعان کر لیا، جب وہ جانے لگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید یہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دے۔“ تو اس نے سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ جنم دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15345
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1495»