حدیث نمبر: 15344
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ حَدَّثَنِي أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو يَعْلَى أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى الْمَوْصِلِيُّ نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمَوَارِيثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَقَدْ رَوَيْنَا قَوْلَهُ: وَكَانَتْ حَامِلًا فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

زہری سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، کیا وہ اس کو قتل کر دے؟ کیا تم اسے قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟“ اس کے ساتھ ہی اللہ رب العزت نے لعان کے بارے میں قرآن میں ذکر کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا اور میں آپ ﷺ کے پاس تھا۔ اس شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس کو اپنی بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے“، تو اس نے جدا کر دیا، تو اس کے بعد یہ طریقہ جاری ہو گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کر دیا تھا اور بیٹے کی نسبت ماں کی طرف کر دی گئی۔ پھر وراثت میں ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہو گا جو حصے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»