السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15282
وَقَدْ أَخْبَرَنِيهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِجَازَةً أَنَّ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ صُبَيْحٍ، أَخْبَرَهُمْ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، أنا إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْ إِلَيْكَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ "، وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُعْطِي مِنَ الْوَسْقِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ يَأْكُلُ بَقِيَّتَهُ يَعْنِي بَقِيَّةَ الْوَسْقِ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپ بنو زریق سے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جائیں، وہ آپ کو ایک وسق کھجور دے گا تو ساٹھ مسکینوں کو کھلا کر باقی خود کو اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا۔“ یہ دلالت کرتی ہے کہ وسق سے ساٹھ مسکینوں کو دیا گیا، باقی ماندہ سے اس نے خود بھی کھایا۔