حدیث نمبر: 15281
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ وَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِلَ حَتَّى يُدْرِكَنِيَ الصُّبْحُ، فَبَيْنَمَا هِيَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِحِيَالٍ مِنِّي إِذَا انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: لَا وَاللهِ لَا نَذْهَبُ مَعَكَ نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ: " أَنْتَ ذَاكَ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا ذَاكَ فَاقْضِ فِيَّ حُكْمَ اللهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ قَالَ: " أَعْتِقْ رَقَبَةً "، فَضَرَبْتُ صَفْحَ عُنُقِ رَقَبَتِي بِيَدِي فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ: " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ؟ قَالَ: " فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا مَا نَجِدُ عَشَاءً، قَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا وَتَسْتَعِينُ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ "، فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ ⦗٦٤٢⦘ كَذَا رُوِيَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ

سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عورتوں سے جتنی صحبت کرتا تھا، میرے علاوہ کوئی اتنی خواہش بھی نہ رکھتا تھا، جب رمضان شروع ہوا تو میں نے (بیوی سے ہم بستری) واقع ہونے کے ڈر سے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، میں کوشش کرتا رہا، لیکن میں اتنی طاقت نہ رکھتا تھا کہ صبح تک الگ رہوں، ایک رات وہ میرے قریب بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ کھل گیا تو میں اس سے ہم بستری کر بیٹھا، صبح کے وقت میں نے اپنی قوم کو بتایا اور کہا: ”میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تیرے ساتھ نہ جائیں گے، ہمیں خوف ہے کہ کہیں قرآن ہمارے بارے میں نازل نہ ہو جائے، یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو ہمارے لیے عار کا باعث بن جائے۔ خود جا کر جو کرنا ہے سو کرو۔ میں نے آ کر رسول اللہ ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم وہی ہو؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ مجھ پر حد نافذ کریں، میں صبر کرنے والا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کرو۔“ تو میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اور عرض کیا: میں اس کے علاوہ کسی کا مالک نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ سب کچھ تو روزوں ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے خالی پیٹ رات گزاری ہے، ہمارے پاس شام کا کھانا بھی نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں کچھ دے دے گا تو ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور باقی اپنے گھر والوں کو دے دینا۔“ میں اپنی قوم کے پاس آیا تو کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی پائی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15281
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»