السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: وصف الإسلام باب: اسلام کی صفت (علامات و خصوصیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 15270
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُقَاتِلُ النَّاسَ حَتَّى ⦗٦٣٨⦘ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَآمَنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جب وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں تو انہوں نے اپنی جانیں مجھ سے بچا لیں مگر اسلام کے حق کی وجہ سے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“