حدیث نمبر: 15269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا أَبُو مَعْدَانَ الْمِنْقَرِيُّ يَعْنِي عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ، نا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ عَنِّي هَذِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَبُّكِ؟ " قَالَتْ: اللهُ رَبِّي قَالَ: " فَمَا دِينُكِ؟ " قَالَتْ: الْإِسْلَامُ قَالَ: " فَمَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: " فَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ، وَتُقِرِّينَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللهِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهَا وقَالَ: " أَعْتِقِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ

عون بن عبداللہ بن عتبہ اپنے والد سے دادا رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس سیاہ لونڈی لے کر آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ذمے مومنہ گردن کا آزاد کرنا ہے، کیا یہ میری جانب سے کفایت کر جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تیرا رب کون ہے؟“ کہنے لگی: میرا رب اللہ ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تیرا دین کیا ہے؟“ اس نے کہا: اسلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پانچ نمازیں پڑھتی ہے اور تو اقرار کرتی ہے جو میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے اس کی کمر پر مارا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الظهار / حدیث: 15269
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»