السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الظهار— ظہار کا بیان
باب: وصف الإسلام باب: اسلام کی صفت (علامات و خصوصیات) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَأُعْتِقُ هَذِهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَعْتِقْهَا " هَذَا مُرْسَلٌ وَقَدْ مَضَى مَوْصُولًا بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری اپنی سیاہ لونڈی لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ذمے ایک مومنہ گردن آزاد کرنا ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ آپ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس لونڈی نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو شہادت دیتی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟“ اس لونڈی نے اثبات میں جواب دیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرا مرنے کے بعد اٹھنے پر یقین ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور اس کے کچھ معنی کے ساتھ یہ موصول (متصل سند سے) پہلے گزر چکی ہے۔