السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإيلاء— ایلاء کا بیان
باب: الإيلاء في الغضب باب: غصے کی حالت میں ایلاء کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، نا أَبُو الْأَشْعَثِ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ الثَّقَفِيُّ عَنْ دَاوُدَ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّهُ تُوُفِّيَ أَخُوهُ، وَتَرَكَ بَنِيًّا لَهُ رَضِيعًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ لِامْرَأَتِهِ: أَرْضِعِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَغْتَالَهُ، فَحَلَفَ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ فَفَعَلَ حَتَّى فَطَمَتْهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّكَ إِنَّمَا أَرَدْتَ الْخَيْرَ وَإِنَّمَا الْإِيلَاءُ فِي الْغَضَبِ " وَحَكَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ وَهِيَ تُرْضِعُ بِابْنِ أَخِيهِ فَذَكَرَهُ.ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا بھائی فوت ہو گیا اور ان کا دودھ پیتا بچہ بھی موجود تھا، ابو عطیہ رحمہ اللہ نے ان کی بیوی سے کہا: اس کو دودھ پلاؤ۔ اس نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے حاملہ کر دیں گے، تو ابو عطیہ رحمہ اللہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک تو اسے دودھ پلائے گی وہ تیرے قریب نہیں آئیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس نے دودھ چھڑوا دیا، کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: آپ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور ایلا تو غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔
(ب) ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کیا، اور وہ ان کے بھتیجے کو دودھ پلاتی تھی۔