السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإيلاء— ایلاء کا بیان
باب: الفيئة الجماع إلا من عذر باب: اس بیان میں کہ رجوع کرنے سے مراد ہم بستری کرنا ہے سوائے کسی عذر کے۔
حدیث نمبر: 15235
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " الْفَيْءُ الْجِمَاعُ " ⦗٦٢٥⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَسْرُوقٌ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالشَّعْبِيُّ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْمُفَسِّرِينَ، وَقَالَ الْحَسَنُ: " الْفَيْءُ الْجِمَاعُ فَإِنْ كَانَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ أَوْ سَجْنٍ أَجْزَأَهُ أَنْ يُفِيءَ بِلِسَانِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عامر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد ہے کہ وہ جماع کرے۔
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رجوع کا مقصد جماع کرنا ہے، اگر کوئی عذر ہے بیماری یا قید تو پھر زبان سے رجوع ہی کافی ہے۔