السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإيلاء— ایلاء کا بیان
باب: من قال: يوقف المولي بعد تربص أربعة أشهر فإن فاء وإلا طلق باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ایلاء کرنے والے کو چار ماہ کے انتظار کے بعد روکا جائے گا، پس یا تو وہ رجوع کر لے ورنہ طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 15215
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْإِيلَاءِ: " إِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَلَمْ يُوقَفْ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ وَلَوْ مَرَّتِ السَّنَةُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ طَلَاقٌ حَتَّى يُوقَفَ ".حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایلا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں اور ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے تو یہ طلاق نہ ہوگی، اگر سال بھی گزر جائے تو طلاق نہ ہوگی، جب تک ایلا کرنے والے کو کھڑا نہ کیا جائے۔