السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في عدد طلاق العبد ومن قال الطلاق بالرجال والعدة بالنساء ومن قال هما جميعا بالنساء باب: غلام کی طلاق کی تعداد کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ طلاق کا اعتبار مردوں کے لحاظ سے ہے اور عدت کا عورتوں کے لحاظ سے، اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ان دونوں کا اعتبار عورتوں کے لحاظ سے ہے۔
حدیث نمبر: 15173
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ⦗٦٠٧⦘ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنِ الْأَمَةِ كَمْ تُطَلَّقُ؟ قَالَ: " طَلَاقُهَا اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ " قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَبَلَغَكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا؟ قَالَ: " لَا ".حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاسم رحمہ اللہ سے لونڈی کی طلاقوں کے بارے میں پوچھا گیا؟ فرمانے لگے: اس کی دو طلاقیں ہیں اور عدت دو حیض ہے، جب ان سے پوچھا گیا: کیا نبی ﷺ کی طرف سے آپ کو کچھ پہنچا؟ فرماتے ہیں: نہیں۔