السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: {وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف ولا تمسكوهن ضرارا} باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو، اور انہیں نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا} [البقرة: 231].باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا﴾ ”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مدت (کے قریب) پہنچ جائیں تو انہیں دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق رخصت کر دو، اور انہیں تکلیف پہنچانے کے لیے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 231]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: إِذَا شَارَفْنَ بُلُوغَ أَجَلِهِنَّ فَرَاجِعُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ دَعُوهُنَّ تَنْقَضِي عِدَّتُهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَنَهَاهُمْ أَنْ يُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِيَعْتَدُوا فَلَا يَحِلُّ إِمْسَاكُهُنَّ ضِرَارًا.امام شافعی رحمہ اللہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ان کی مدت پوری ہونے کے قریب ہو تو ان سے اچھائی کے ساتھ رجوع کرو یا چھوڑ دو، تاکہ ان کی عدت پوری ہو جائے اور تکلیف دینے کی غرض سے روکنے سے منع فرمایا ہے، کوئی بھی اس غرض سے نہ روکے۔