السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرجعة— طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
باب: ما يكره من ذلك باب: اس (طرح کے الفاظ کہنے) کی کراہت کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: ٢٢٨] قَالَ: يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ وَهِيَ حَامِلٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا مَا لَمْ تَضَعْ وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَكْتُمَ حَمْلَهَا وَهُوَ قَوْلُهُ: {وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: ٢٢٨].علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان عورتوں کے خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھیں۔“ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ جب خاوند اپنی حاملہ بیوی کو طلاق دے دے ایک یا دو تو وہ رجوع کا حق رکھتا ہے جب تک وہ وضع حمل نہ کرے، اور عورت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے حمل کو چھپائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 228] ”عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا فرمایا ہے اس کو چھپائیں۔“ [ضعیف]