السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15140
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: " هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ " وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِخِلَافِ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر ہی اپنے پہلے خاوند کے پاس رہے گی۔
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برخلاف منقول ہے۔