السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15141
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا هُوَ بَعْدُ قَالَ: تَكُونُ عَلَى طَلَاقٍ مُسْتَقْبَلٍ ".حافظ ثناء اللہ
وبرہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر کوئی دوسرا شخص اس عورت سے شادی کر لیتا ہے، پھر پہلا خاوند دوبارہ شادی کر لیتا ہے تو وہ نئے سرے سے تین طلاق دینے کا مجاز ہے۔