السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنَ الطَّلَاقِ " يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَتَبِينُ مِنْهُ فَتَزَوَّجُ زَوْجًا فَيُطَلِّقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا الْأَوَّلُ قَالَ: هِيَ عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلی رحمہ اللہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ عورت باقی ماندہ طلاقوں پر اپنے خاوند کے پاس رہے گی، یعنی ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو وہ اس سے الگ ہو گئی، اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر پہلے خاوند نے دوبارہ نکاح کر لیا تو یہ پہلے خاوند کے پاس باقی ماندہ طلاقوں کی بنیاد پر رہے گی۔