السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15137
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ يُقَالُ لَهُ مَزِيدَةُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا ⦗٥٩٨⦘ بَقِيَ مِنْ طَلَاقِهَا " قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَأْخُذُ بِهَذَا الْقَوْلِ يَعْنِي فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تَزَوَّجُ ثُمَّ يُرَاجِعُهَا.حافظ ثناء اللہ
مزیدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ عورت اس کے پاس انھی طلاقوں کے حساب سے رہے گی جو اس کی باقی رہتی ہیں، سعید کہتے ہیں کہ قتادہ نے اسی قول کو قبول کیا ہے کہ آدمی نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر وہ شادی کر لیتی ہے، پھر وہ مرد اس کو اپنی طرف واپس لاتا ہے۔