السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15136
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ غَيْرُهُ، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: وَكَانَ سُفْيَانُ قِيلَ لَهُ فِيهِمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ: نا الزُّهْرِيُّ هَكَذَا لَمْ يَزِدْنَا عَلَى هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهُ قَالَ: لَا أَحْفَظُ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَعِيدًا وَلَكِنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ ذَلِكَ وَكَانَ حَسْبُكَ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ اس عورت کی عدت ختم ہو جاتی ہے تو وہ کسی دوسرے سے نکاح کر لیتی ہے، حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم تین سے زیادہ نہ کریں گے، جب اس سے فارغ ہوئے تو سعید رحمہ اللہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ کو یہی کافی ہے۔