السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15135
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَهْدِمُ الزَّوْجُ الْمُصِيبَهَا بَعْدَ الثَّلَاثِ وَلَا يَهْدِمُ الْوَاحِدَةَ وَلَا الثِّنْتَيْنِ وَاحْتَجَّ بِِمَا.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں کے بعد اس سے ہمبستری کرنے والا (دوسرا) شوہر (پچھلی طلاقوں کو) ختم کر دیتا ہے، لیکن ایک یا دو طلاقوں کو ختم نہیں کرتا۔“ اور انہوں نے اس سے استدلال کیا جو...
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَنَكَحَتْ زَوْجًا ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا أَوْ طَلَّقَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى الزَّوْجِ الْأَوَّلِ، عَلَى كَمْ هِيَ عِنْدَهُ؟ قَالَ: " هِيَ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بحرین کے ایک شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دی تھیں، اس عورت نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لیا، وہ فوت ہو گیا یا اس نے طلاق دے دی۔ پھر وہ پہلے خاوند کی طرف واپس آ گئی تو اس کی کتنی طلاقیں باقی ہیں؟ فرمایا: جتنی طلاقیں پہلی مرتبہ بچی تھیں، وہی باقی ہیں۔