السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في توريث المبتوتة في مرض الموت باب: مرض الموت میں طلاقِ بائن پانے والی عورت کی وراثت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ امْرَأَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا ⦗٥٩٥⦘ فَقَالَ لَهَا: إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَهُرْتِ فَآذِنِينِي فَلَمْ تَحِضْ حَتَّى مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا طَهُرَتْ آذَنَتْهُ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ أَوْ تَطْلِيقَةً لَمْ يَكُنْ بَقِيَ لَهُ عَلَيْهَا مِنَ الطَّلَاقِ غَيْرُهَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَوْمَئِذٍ مَرِيضٌ " فَوَرَّثَهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهُ بَعْدَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي أَخْتَارُهُ إِنْ وَرِثَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ أَنْ تَرِثَ مَا لَمْ تَتَزَوَّجْ فَإِذَا تَزَوَّجَتْ فَلَا تَرِثُهُ فَتَرِثُ زَوْجَيْنِ وَتَكُونُ كَالتَّارِكَةِ لِحَقِّهَا بِالتَّزْوِيجِ.ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تو انہوں نے فرمایا: جب تو حیض کے بعد پاک ہو جائے تو مجھے بتانا، وہ حائضہ ہی نہ ہوئی تھی کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ جب وہ پاک ہوئی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں دے دیں یا ایک طلاق دے دی، اس کی کوئی طلاق باقی نہ تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عدت گزرنے کے بعد بھی اسے وارث بنایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ عدت گزر جانے کے بعد وارث ہو سکتی ہے تو اگر شادی نہ کرے تو وارث ہو گی، اگر آگے شادی کر لے تو وارث نہ ہو گی، باقی دو بیویاں وارث ہوں گی گویا کہ اس نے شادی کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔