السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في توريث المبتوتة في مرض الموت باب: مرض الموت میں طلاقِ بائن پانے والی عورت کی وراثت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَصْبَغُ بْنُ فَرَجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، يُكَلِّمُ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ عَلَى عَشَائِهِ وَنَحْنُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ نَكَحَ ابْنَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ ضِرَارًا لِابْنَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ حِينَ أَبَتْ أَنْ تَبِيعَهُ مِيرَاثَهَا مِنْهُ فِي وَجَعِهِ حِينَ أَصَابَهُ الْفَالِجُ، ثُمَّ لَمْ يَنْتَهِ إِلَى ذَلِكَ حَتَّى طَلَّقَ أُمَّ كُلْثُومٍ فَحَلَّتْ فِي وَجَعِهِ وَهَذَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ حَيٌّ يَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي تُمَاضِرَ بِنْتِ الْأَصْبَغِ، وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا حَلَّتْ وَيَشْهَدُ عَلَى قَضَاءِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ وَرَّثَهَا مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُكْمِلٍ بَعْدَ مَا حَلَّتْ فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَنْ شَهَادَتِهِ، قَالَ الْوَلِيدُ حِينَ قَضَى كَلَامَهُ: مَا أَظُنُّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَضَى بِهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ إِنْ لَمْ يَشْهَدْ عَلَى ذَلِكَ السَّائِبُ فَأَنَا مُبْطِلٌ حَضَرَهُ وَعَايَنَهُ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ وَتَابَعَهُ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ.ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر رحمہ اللہ نے شام کے کھانے پر ولید بن عبدالملک سے بات کی جبکہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان میں تھے۔ معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی بیٹی سے نکاح صرف عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کی بیٹی کو پریشان کرنے کے لیے کیا ہے۔ جس وقت ان کو فالج کی بیماری نے آ لیا تو وہ اپنی میراث فروخت کرنا چاہتے تھے جس کا بیوی نے انکار کر دیا، پھر ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے اپنی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دی اور وہ ان کی بیماری کے ایام میں ہی حلال ہو گئی (یعنی عدت پوری ہو گئی) اور یہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہما زندہ ہیں، جو تماضر بنت اصبغ رضی اللہ عنہا کے فیصلے کے وقت موجود تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں عدت گزرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا وارث بنایا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام حکیم بنت قارظ رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن مکمل رضی اللہ عنہ کا بھی عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا۔ آپ ان سے پوچھ لیں، ان کی بات مکمل ہونے کے بعد ولید نے کہا: میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ نہیں فرمایا۔ معاویہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اگر سائب رضی اللہ عنہما اس کی گواہی نہ دیں تو میں ان کی موجودگی اور دیکھنے کو باطل قرار دے دوں گا۔