السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاستثناء في الطلاق، والعتق، والنذور كهو في الأيمان لا يخالفها باب: اس بیان میں کہ طلاق، غلام آزاد کرنے اور نذروں میں استثناء ویسا ہی ہے جیسا قسموں میں ہے، یہ ان کے خلاف نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ الدُّولَابِيُّ نا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ النَّخَعِيِّ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ لِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: وَأِيُّ حَدِيثٍ لَوْ كَانَ حُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ اللَّخْمِيُّ مَعْرُوفًا؟ قُلْتُ: هُوَ جَدُّ أَبِي، قَالَ يَزِيدُ: سَرَرْتَنِي الْآنَ، صَارَ حَدِيثًا، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ فِيهِ كَبِيرُ سُرُورٍ فَحُمَيْدُ بْنُ رَبِيعِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ الْكُوفِيُّ الْخَزَّازُ ضَعِيفٌ جِدًّا، نَسَبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ إِلَى الْكَذِبِ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَالِكٍ مَجْهُولٌ، وَمَكْحُولٌ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ عَنْ مُعَاذٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مُقَابَلَتِهِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ لَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِمِثْلِهِ.حمید بن مالک نخعی سے (دوسری سند کے ساتھ) اسماعیل کی حدیث کی طرح منقول ہے۔ حمید کہتے ہیں: یزید بن ہارون نے مجھ سے کہا: کیا ہی (عمدہ) حدیث ہوتی اگر حمید بن مالک لخمی معروف ہوتے! میں نے کہا: وہ میرے والد کے دادا ہیں۔ یزید نے کہا: اب تو نے مجھے خوش کر دیا، اب یہ حدیث بن گئی۔
شیخ (امام بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اس میں خوشی کی کوئی بڑی بات نہیں؛ کیونکہ حمید بن ربیع بن حمید بن مالک کوفی خزاز سخت ضعیف ہے، یحییٰ بن معین وغیرہ نے اسے جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے، اور حمید بن مالک مجہول ہے، اور مکحول کی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت منقطع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: حمید سے، وہ مکحول سے، وہ خالد بن معدان سے، وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے، اور یہ بھی کہا گیا ہے: ان سے، وہ مکحول سے، وہ مالک بن یخامر سے، وہ معاذ رضی اللہ عنہ سے، اور یہ محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور اس کے مقابلے میں ایک ضعیف حدیث مروی ہے جس جیسی حدیث سے دلیل پکڑنا جائز نہیں۔