السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاستثناء في الطلاق، والعتق، والنذور كهو في الأيمان لا يخالفها باب: اس بیان میں کہ طلاق، غلام آزاد کرنے اور نذروں میں استثناء ویسا ہی ہے جیسا قسموں میں ہے، یہ ان کے خلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15121
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، نا أَبُو خَوْلَةَ مَيْمُونُ بْنُ مَسْلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ اللَّخْمِيِّ، نا مَكْحُولٌ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ: " لَهُ اسْتِثْنَاؤُهُ " قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ قَالَ لِغُلَامِهِ أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ؟ فَقَالَ: " يَعْتِقُ لِأَنَّ اللهَ يَشَاءُ الْعِتْقَ وَلَا يَشَاءُ الطَّلَاقَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی سے کہتا ہے: «أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا استثناء باقی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے: «أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”آپ آزاد ہیں اگر اللہ نے چاہا“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آزاد ہو جائے گا کیونکہ اللہ آزادی کو پسند کرتے ہیں جب کہ طلاق کو نہیں چاہتے۔“