السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الاستثناء في الطلاق، والعتق، والنذور كهو في الأيمان لا يخالفها باب: اس بیان میں کہ طلاق، غلام آزاد کرنے اور نذروں میں استثناء ویسا ہی ہے جیسا قسموں میں ہے، یہ ان کے خلاف نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنا أَبُو يَعْلَى، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ نا الْحَسَنُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ مَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ، وَمَا خَلَقَ اللهُ شَيْئًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْعَتَاقِ، فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِمَمْلُوكِهِ أَنْتَ حُرٌّ إِنْ شَاءَ اللهُ فَهُوَ حُرٌّ وَلَا اسْتِثْنَاءَ لَهُ، وَإِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللهُ فَلَهُ الِاسْتِثْنَاءُ وَلَا طَلَاقَ عَلَيْهِ ".حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”اے معاذ! جو بھی اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر پیدا فرمایا ہے ان میں سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے اور جو چیز اللہ نے روئے زمین پر پیدا فرمائی ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب ترین چیز اللہ تعالیٰ کو آزادی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے غلام سے کہتا ہے: تو آزاد ہے «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تو وہ آزاد ہو جاتا ہے، استثنا کا کچھ فائدہ نہیں ہے اور جب کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: «أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”تجھے طلاق ہے اگر اللہ نے چاہا“ تو طلاق واقع نہ ہوگی استثنا کے موجود ہونے کی وجہ سے۔“