السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق المكره باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15100
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبَانَهَا مِنْهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُهُ قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَطَاءٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ طَلَاقَهُ غَيْرَ جَائِزٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الرِّوَايَةُ الْأُولَى أَشْبَهُ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ.حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قدامہ جمحی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس قصے کو نقل فرماتے ہیں کہ جب معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کو اس شخص سے جدا کر دیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے الٹ بھی ہے۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، عطاء رحمہ اللہ اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ سب کہتے ہیں: یہ طلاق جائز نہیں ہے۔