السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق المكره باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15099
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا تَدَلَّى يَشْتَرِي عَسَلًا فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ فَوَقَفَتْ عَلَى الْحَبْلِ فَحَلَفَتْ لَتَقْطَعَنَّهُ أَوْ لَتُطَلِّقَنِي ثَلَاثًا فَذَكَّرَهَا اللهَ وَالْإِسْلَامَ فَأَبَتْ إِلَّا ذَلِكَ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمَّا ظَهَرَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْهَا إِلَيْهِ وَمِنْهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَلَيْسَ هَذَا بِطَلَاقٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قدامہ بن ابراہیم بن محمد بن حاطب جمعی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قریب ہی سے شہد اتار رہا تھا، اس کی عورت آکر رسی کے اوپر کھڑی ہوگئی، اس نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ رسی کو کاٹ دے گی یا اسے تین طلاقیں دے، تو اس نے اللہ اور اسلام کا واسطہ دیا، لیکن عورت نے انکار کر دیا کہ اسے تین طلاقیں دے، جب وہ شخص نیچے اتر آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس واقعے کا تذکرہ کیا جو اس کے ساتھ پیش آیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر والی کے پاس جا یعنی بیوی کے، یہ طلاق نہیں ہے۔“