السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: المرأة تقول في التمليك طلقتك وهي تريد الطلاق باب: تملیک کی صورت میں عورت کا یہ کہنا ”میں نے تجھے طلاق دی“ جبکہ اس کا ارادہ طلاق کا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ ⦗٥٧٣⦘ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا جَرِيرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مِنْ أَمْرِ الطَّلَاقِ مَا بِيَدِكَ لَفَعَلْتُ، فَقَالَ لَهَا: هُوَ بِيَدِكِ أَوْ قَدْ جَعَلْتُهُ بِيَدِكِ، فَقَالَتْ لَهُ: فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا أَلَا طَلَّقَتْ نَفْسَهَا؟ " وَرُوِّينَا عَنْ مَنْصُورٍ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا لَوْ قَالَتْ قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي "، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُمَا سَوَاءٌ يَعْنِي قَوْلَهَا طَلَّقْتُكَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِي سَوَاءٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: اگر طلاق دینے کا اختیار مجھے ہو جو آپ کے اختیار میں ہے تو پھر کچھ کروں۔ تو خاوند نے یہ اختیار بیوی کو دے دیا۔ وہ کہنے لگی: تجھے تین طلاقیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے اپنے آپ کو طلاق کیوں نہ دی۔
(ب) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے یہ کیوں نہ کہا کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دی ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: اس کا قول دونوں طرح برابر ہے: «طَلَّقْتُكَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِي»۔
(٢٥) «بَابُ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَهُ»
خاوند دل میں بیوی کو طلاق دے دے زبان سے بات نہ کرے۔