حدیث نمبر: 15051
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، نا الْحَسَنُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ مَا تَمْلِكُ مِنْ أَمْرِي كَانَ بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: فَإِنَّ مَا أَمْلِكُ مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ، قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا، فَقِيلَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا فَهَلَّا طَلَّقَتْ نَفْسَهَا إِنَّمَا الطَّلَاقُ عَلَيْهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن جبیر رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: اگر وہ اختیار مجھے مل جائے جو تیرے ہاتھ میں ہے تو جان لے کہ میں کیا کوئی ہوں تو مرد نے اپنا اختیار عورت کے سپرد کر دیا۔ عورت نے کہہ دیا: میں نے تجھے تین طلاقیں دے دیں۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا تو فرمانے لگے: اللہ تیرے کام کو غلط قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو طلاق نہ دی ہے۔ طلاق عورت کو دی جاتی ہے نہ کہ مرد کو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15051
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»