السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التخيير باب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15033
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ أَوْ أَمْرُكِ لَكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ مَسْرُوقٍ.حافظ ثناء اللہ
مسروق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہے: ”اپنے معاملے کا خود فیصلہ کر لے“ یا ”تیرا معاملہ تیرے سپرد“ یا اس شخص نے اس عورت کو اس کے گھر والوں کے لیے ہبہ کر دیا تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
اس روایت میں یہ بات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ مسروق کا قول ہے۔