السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في التخيير باب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَالْأُخْرَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو السَّفَرِ، عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ التَّخْيِيرِ، عَنْ رَجُلٍ خَيَّرَ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَالَ: " تَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا " قُلْنَا: فَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا؟ قَالَ: " فَلَيْسَ بِشَيْءٍ " قُلْنَا: فَإِنَّ نَاسًا يَرْوُونَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَتَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِهَا أَيْ بِرَجْعَتِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَتَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَهِيَ أَمْلَكُ بِنَفْسِهَا "، قَالَ: هَذَا وَجَدُوهُ فِي الصُّحُفِ "، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَالصَّحِيحُ عَنْهُ مَا رَوَيْنَا.ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اور ابو سفر، ابو جعفر کے پاس گئے تو میں نے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو اختیار دیا تو بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، فرماتے ہیں: یہ ایک طلاق ہے اور اس کا خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے، ہم نے کہا: اگر عورت خاوند کو اختیار کر لے تو؟ فرمایا: پھر اس کے ذمے کچھ بھی نہیں۔ ہم نے کہا: لوگ علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر عورت خاوند کو اختیار کرتی ہے تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے اور عورت اپنے نفس کی زیادہ مالک ہے۔ کہتے ہیں: اسی طرح انہوں نے قرآنِ مجید میں پایا ہے لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔