حدیث نمبر: 1500
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ لَهُمْ عُمَرُ: أَبِإِذْنٍ جِئْتُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا نَسْأَلُ عَنْ ثَلَاثٍ قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالُوا: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا مَا هِيَ، وَمَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ عُمَرُ: " أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟ " قَالُوا: لَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ قَالَ: لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ ⦗٤٦٧⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُنَّ قَبْلَكُمْ أَمَّا صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ نُورٌ فَنَوِّرْ بَيْتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ، وَأَمَّا الْحَائِضُ فَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَلَيْسَ لَهُ مَا تَحْتَهُ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتُفْرِغُ بِيَمِينِكَ عَلَى يَسَارِكَ، ثُمَّ تُدْخِلُ يَدَكَ فِي الْإِنَاءِ فَتَغْسِلُ فَرْجَكَ وَمَا أَصَابَكَ، ثُمَّ تَوَضَّأُ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُفْرِغُ عَلَى رَأْسِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَدْلُكُ رَأْسَكَ كُلَّ مَرَّةٍ ثُمَّ تَغْسِلُ سَائِرَ جَسَدِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام عمیر سے روایت ہے کہ اہل عراق میں سے ایک گروہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو کون سی چیز لے کر آئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ سے تین سوال کرنے آئے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اس کے لیے اپنی بیوی سے کیا حلال ہے جب وہ حائضہ ہو اور جنابت کے غسل کے متعلق پوچھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم جادوگر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اے امیر المؤمنین! ہم جادوگر نہیں ہیں انہوں نے کہا تم نے تین چیزوں کے متعلق سوال کیا، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا ہے، مجھ سے کسی نے بھی ان کے متعلق سوال نہیں کیا، ”آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، اپنے گھر کو روشن کر جتنی تو طاقت رکھتا ہے اور حائضہ سے چادر کے اوپر تک، تیرے لیے اس سے نیچے حلال نہیں ہے اور جنابت کا غسل اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر، اپنی شرمگاہ کو دھو اور جو چیز اس کو لگی ہے (اسے دور کر) پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال، ہر مرتبہ اپنے سر کو مل، پھر اپنے سارے جسم کو دھو لے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1500
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 987»