السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ أنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، نا مَسْلَمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَحْمَسِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ: إِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنَّ " مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا بِجَهَالَةٍ رُدَّ إِلَى السُّنَّةِ يَجْعَلُونَهَا وَاحِدَةً "، يَرْوُونَهَا عَنْكُمْ قَالَ: مَعَاذَ اللهِ مَا هَذَا مِنْ قَوْلِنِا " مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا فَهُوَ كَمَا قَالَ ".حافظ ثناء اللہ
مسلمہ بن جعفر احمس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے کہا کہ لوگوں کا گمان ہے جس نے جہالت کی بنا پر تین طلاقیں دے دیں تو اس کو سنت کی طرف لوٹایا جائے گا، یعنی اس کو ایک طلاق شمار کریں گے اور روایت بھی تم سے ہی کرتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ یہ ہمارا قول نہیں ہے: جس نے تین طلاقیں دیں وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہہ دیا۔