السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ هِشَامٍ، نا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ⦗٥٥٦⦘ الْأَعْمَشِ قَالَ: كَانَ بِالْكُوفَةِ شَيْخٌ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ يُرَدُّ إِلَى وَاحِدَةٍ " وَالنَّاسُ عُنُقًا وَاحِدًا إِذْ ذَاكَ يَأْتُونَهُ وَيَسْمَعُونَ مِنْهُ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ فَخَرَجَ إِلِيَّ شَيْخٌ، فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِذَا طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ يُرَدُّ إِلَى وَاحِدَةٍ " قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ: أُخْرِجُ إِلَيْكَ كِتَابًا فَأَخْرَجَ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ هَذَا غَيْرُ الَّذِي تَقُولُ قَالَ: الصَّحِيحُ هُوَ هَذَا وَلَكِنَّ هَؤُلَاءِ أَرَادُونِي عَلَى ذَلِكَ.اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ میں ایک شیخ تھا جو کہتا تھا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو اس کو ایک ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اس وقت لوگ جوق در جوق اس کے پاس آتے اور اس سے سنتے تھے۔ اعمش کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھا شخص باہر نکلا۔ میں نے اس سے کہا: آپ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے سنا جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں؟ اس نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو اس کو ایک ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ میں نے اس سے پوچھا: آپ نے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہاں سنا تھا؟ اس نے کہا: میں تمہیں ایک کتاب نکال کر دکھاتا ہوں۔ اس نے کتاب نکالی تو اس میں لکھا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ یہ وہ ہے جو میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: جب مرد اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو وہ اس سے جدا ہو جائے گی اور اس کے لیے حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ میں نے کہا: افسوس ہے تم پر! یہ تو اس کے علاوہ بات ہے جو تم کہتے ہو۔ اس نے کہا: صحیح یہی ہے، لیکن ان لوگوں نے مجھ سے اس بات کا تقاضا کیا۔