السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، بِبَغْدَادَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ، نا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: " مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا بِجَهَالَةٍ أَوْ عِلْمٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
سالم صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے سنا: جس نے جہالت یا علم کی بنیاد پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں وہ اس سے الگ ہوجائے گی۔