حدیث نمبر: 14987
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟ " قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ: " فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ " فَرَاجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَرَى إِنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ فَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا النَّاسُ وَالَّتِي أَمَرَ اللهُ لَهَا {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ نا مُسْلِمُ بْنُ عِصَامٍ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ نا عَمِّي نا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَذَكَرَهُ وَهَذَا الْإِسْنَادُ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ مَعَ ثَمَانِيَةٍ رَوَوْا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فُتْيَاهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ وَمَعَ رِوَايَةِ أَوْلَادِ رُكَانَةَ أَنَّ طَلَاقَ رُكَانَةَ كَانَ وَاحِدَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس پر وہ بڑے پریشان ہوئے، پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تم نے اسے کیسے طلاق دی تھی؟“ رکانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین طلاقیں دی تھیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ایک ہی مجلس میں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک ہی ہے، اگر تو چاہے تو رجوع کر لے۔“ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق طہر کے موقع پر دی جائے گی، یہ وہ طریقہ ہے جس پر لوگ ہیں اور اس کا اللہ رب العزت نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] یہ اسناد قابلِ حجت نہیں ہیں کہ ٨ راوی ہیں اور رکانہ رضی اللہ عنہ کی اولاد بھی یہ بیان کرتی ہے کہ ان کی طلاق ایک ہی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14987
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»