السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتُهُ أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعَرَةُ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ثُمَّ قَالَ لِجُلَسَائِهِ: " أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ وَفُلَانًا مِنْهُ كَذَا وَكَذَا؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ يَزِيدَ: " طَلِّقْهَا "، فَفَعَلَ قَالَ: " رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ "، فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا، وَتَلَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَرَدَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ لِأَنَّهُمْ وَلَدُ الرَّجُلِ وَأَهْلُهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ.عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد یزید ابو رکانہ اور اس کے بھائیوں نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ قبیلے کی عورت سے شادی کرلی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی، کہتی ہے کہ اس نے مجھے اتنی کفایت بھی نہیں کی جیسے یہ سر کے بال ہیں۔ آپ ﷺ میرے اور اس کے درمیان تفریق کروا دیں۔ نبی ﷺ کو غصہ آیا تو رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلایا، پھر مجلس والوں سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں، عبد یزید کے مشابہ ہے اور فلاں فلاں چیز میں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، نبی ﷺ نے عبد یزید سے فرمایا: ”تو اس کو طلاق دے دے۔“ تو اس نے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی بیوی ام رکانہ سے رجوع کرلے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں، تو اس سے رجوع کر۔“ اور اس آیت کی تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کو عدت کے اندر طلاق دیا کرو۔“
(ب) عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تھی تو نبی ﷺ نے اس کو واپس کر دیا۔ یہ زیادہ صحیح ہے؛ کیونکہ اولاد اور اہل گھر کے معاملات کو زیادہ مانتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو نبی ﷺ نے اس کو ایک شمار کیا۔